Skip to main content

Nothing in life is more important than your family. - Eswrites

After 21 years of marriage, my wife wanted me to take another woman out to dinner and a movie. She said, “I love you, but I know this other woman loves you and would love to spend some time with you.”

The other woman that my wife wanted me to visit was my MOTHER, who has been a widow for 19 years, but the demands of my work and my three children had made it possible to visit her only occasionally. That night I called to invite her to go out for dinner and a movie. “What’s wrong, are you well?” she asked.

My mother is the type of woman who suspects that a late night call or a surprise invitation is a sign of bad news. “I thought that it would be pleasant to spend some time with you,” I responded. “Just the two of us.” She thought about it for a moment, and then said, “I would like that very much.”

That Friday after work, as I drove over to pick her up I was a bit nervous. When I arrived at her house, I noticed that she, too, seemed to be nervous about our date. She waited in the door with her coat on. She had curled her hair and was wearing the dress that she had worn to celebrate her last wedding anniversary. She smiled from a face that was as radiant as an angel’s. “I told my friends that I was going to go out with my son, and they were impressed, “she said, as she got into the car. “They can’t wait to hear about our meeting.”



We went to a restaurant that, although not elegant, was very nice and cozy. My mother took my arm as if she were the First Lady. After we sat down, I had to read the menu. Her eyes could only read large print. Half way through the entries, I lifted my eyes and saw Mom sitting there staring at me. A nostalgic smile was on her lips. “It was I who used to have to read the menu when you were small,” she said. “Then it’s time that you relax and let me return the favor,” I responded. During the dinner, we had an agreeable conversation – nothing extraordinary but catching up on recent events of each other’s life. We talked so much that we missed the movie. As we arrived at her house later, she said, “I’ll go out with you again, but only if you let me invite you.” I agreed.

“How was your dinner date?” asked my wife when I got home. “Very nice. Much more so than I could have imagined,” I answered.

A few days later, my mother died of a massive heart attack. It happened so suddenly that I didn’t have a chance to do anything for her. Some time later, I received an envelope with a copy of a restaurant receipt from the same place mother and I had dined. An attached note said: “I paid this bill in advance. I wasn’t sure that I could be there; but nevertheless, I paid for two plates – one for you and the other for your wife. You will never know what that night meant for me. I love you, son.”

At that moment, I understood the importance of saying in time: “I LOVE YOU” and to give our loved ones the time that they deserve. Nothing in life is more important than your family. Give them the time they deserve, because these things cannot be put off till “some other time.”

Comments

Popular posts from this blog

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے...