Skip to main content

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے سر سے پانی کا مٹکا زمین پر گرا ساتھی سہیلیوں نے چھڑوانا چہا تو انہیں بھی مداخلت کرنے پر دھکے دے دیے گئے. ش بی بی اور اسکی سہیلیاں عجب کشمکش میں پڑ گئیں کہ خدایا یہ کیا ہوا کیونکہ سارا منظر بدل چکا تھا حسب معمول پانی بھر کے گھرلے جارہی تھیں اور اچانک قیامت کا سماں پیدا ہو چکا تھا.سنسان سڑک پر بے یارومددگار اور اسلحہ سے لیس ہٹے کٹے مردوں کے چنگل میں پھنسی بچیاں گلا پھاڑ پھاڑ کر مدد کیلئے آوازیں دےرہی تھیں لیکن گاؤں کی اس سنسان سڑک پر انکی چیخ و پکار کسی تک نہ پہنچ پا رہی تھی اور ظالم ش بی بی کو زبردستی گھسیٹ کر ساتھ لے گئے جبکہ بیچاری چیختی چلاتی رہی.بستی میں لے جا کر سر سے دوپٹا اتار لیا گیا تن زیب کپڑے چیر پھاڑ دیے گئے. اور حوا کی بیٹی کو بستی کی گلیوں میں بھگایا جانے لگا پیچھے درندے نما انسان اسلحہ لیے چلتے رہے حوا کی ہر در کھٹکٹاتی جو کوئی بہر نکلتا مدد کیلئے ہاتھ پھیلاتی تن ڈھانپنے کیلئے کپڑا مانگتی لیکن گاؤں کے غریب پیچھے اسلحہ لیے لوگوں کو دیکھ کر خوف کے مارے دروازہ بند کر دیتے. اسی طرح بستی کی تمام گلیوں میں حوا کی بیٹی آدم کے بیٹوں کے ہاتھوں تماشہ بنی رہی. نہ آسمان گرا نہ زمین پھٹی نہ کوئی فرشتے طوفان لے کر آئے. .دوسری جانب سہیلیاں گھر پہنچ چکی تھیں اور اس دردناک واقعہ کا پتہ چلتے ہی ش بی بی کی ماں پاگلوں کی طرح ننگے پاؤں اپنی بیٹی کی عزت بچانے کو نکل پڑی بوڑھا باپ سنتے ہی سکتے میں رہ گیا. گھر سے تیزی سے نکلا اور خدا سے مدد کی طلب کرتے ہوئے بستی کی جانب دوڑ لگائی پاؤں پھسلا اور نیچے گر پڑا پھر اٹھا اور کانپتے ہوئے قدموں سے بستی کی جانب بھاگنے لگا .اس دوران ش بی بی اپنے رشتہ داروں کے در تک پہنچی اور دستک دی. در کھلتے ہی اسے جس حال میں دیکھا گیا ان پر قیامت گزری.در پر آئی ہوئی عزیزہ نے اپنے سر کی شال سے فوراً ش بی بی کو اوڑھ لیا جبکہ پیچھے سے آتے ہوئے ظالم درندے نے وہ شال بھی اسکے تن سےچھین لی . عین اسی وقت ش بی بی کی ماں اور باپ بھی موقع پر پہنچ گئے اور بیٹی کی حالت دیکھ کر زارو قطار روتے ہوئے بیٹی کے جسم کو اپنے بدن سے چھپانے لگے ظالم بدمعاش اسکے والدین کو ڈرا دمکھا کر واپس پلٹ گئے اور ش بی بی کو قریب میں رشتہ داروں کے گھر لے جایا گیا.والدین بیٹی کو لے کر تھانہ پہنچے لیکن تھانہ میں ش بی بی کے بیان تک لینے سے انکار کیا جاتا رہا.اس دوران یہ تمام واقعہ شہر سے بہر پہنچ چکا تھا.پولیس انتظامیہ نے ہمیشہ کی طرح ظالم کا ساتھ دیتے ہوئے دونوں فریقین کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کردیا تاکہ مقدمہ کراس ہو اور طاقتور افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہ ہوسکے.

یہ انسانیت سوز واقعہ صوبہ خیبر پختونخوہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل کی تحصیل درابن کے گاؤں گرہ مٹ میں رونما ہوا.

راقم الحروف پوچھنا چہتا ہے کہ آخر اس 14 ,15 سالہ معصوم لڑکی کا کیا قصور تھا ... کیا اسکا قصور یہ تھا کہ وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوئی، کیا اسکا قصور یہ تھا کہ وہ ایک پسماندہ گاؤں میں رہائش پزیر تھی، یا پھر اسکا قصور ہے تھا وہ کسی سیاسی خاندان کسی وزیر ،کسی صدر، کسی وزیر اعظم، کسی ایم این اے، ایم پی اے کی بیٹی نہیں ہے. ایوانوں اسمبلیوں اور روز بروز اپنی بیوی بیٹی بیٹوں سمیت ہوائی جہازوں میں سفر کر کے کبھی لندن تو کبھی دبئی آنے جانے انسانیت کے ٹھیکیداروں سے سوال ہے کہ اگر ایسا ہی دلخراش واقعہ تم میں سے کسی ایک کی بیٹی کے ساتھ ہوتا تو تم پر کیا گزرتی تمہارا کیا ردعمل عمل ہوتا.کیا تم اس طرح اپنی عزت کے چیتھڑے ہونے کے بعد اس زمین پر قدم بھر سکتے؟ پوچھو اس بھائی سے جسکی معصوم بہن کو دن دیہاڑے برہنہ کرکے گلیوں میں گھمایا ہوگا سوچو کے اسکی دل پر کیا گزری ہوگی اسکی غیرت کیا نہ جاگی ہوگی کیسے وہ اپنے خاندان کی عزت مٹی میں مل جانے کے بعد امن پسند زندگی گزارنے کیلئے تیار ہوگا.اس باپ پر کیا گزری ہو گی جب وہ گھر آکر اپنی بیٹی کا سامنا کرتا ہوگا وہ بیٹی کیسے اپنے باپ اپنے بھائی سے آنکھ ملا پائے گی جسکو ظالموں نے دن دیہاڑے بستی بھر کے لوگوں کے سامنے رسوا کیا کیسے کٹے کی اس معصوم کی پہاڑ جیسی زندگی جسکے آئیندہ رشتے آنا بھی بند ہو گئے.ان ظالموں کو کیا سزا دے پاؤ گے تم ......؟
کیا اس بنتِ حوا کو اس معاشرہ میں وہی عزت و مقام دوبارہ واپس لا کر دے سکو گے؟؟
"شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات"

Comments

Popular posts from this blog

Allama IQbal's Love Life | Eswrites

Iqbal is considered nothing less than an infallible in Pakistan. Courtesy the corrupt text books which the young Pakistanis are bombarded with all their life,  a heavenly hero is what every kid is asked to perceive Iqbal as. There is no doubt in the fact that Iqbal was a revolutionary, a great Philosopher and poet but there has been many twists and turns in his personal life which we should all know as well – for this might help us understand him and his work better. I am posting below an English translation of “Allama Iqbal – Ek mehbooba, Teen beewiyaan, Chaar Shaadiyaan – Dr. Khalid Sohail.”  Laazim hai dil ke paas rahay paas-baan-e-aql Lekin kabhi kabhi isay tan-ha bhi Chhor day (It’s good to keep the heart under the guardianship of wisdom but sometime the heart needs to be left alone) Iqbal When we study the psychological aspect of Iqbal’s life, we find out that despite having a sensitive heart and a brilliant mind, he had to struggle against many roman...

امیری سے غریبی تک کا سفر

دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کےلئے نہیں ۔ آج آپ کے پاس شہرت ہے، دولت ہے اور آپ کے اپنے، آپ کے پاس ہیں۔ کل ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ یا سب کچھ نہ رہے۔ جازان شہر مکہ مکرمہ سے تقریبا ۷۱۵کلومیٹر جنوب مغرب میں یمن کے سرحدی علاقے میں واقع ایک تاریخی شہر ہے۔سیروسیاحت کا شوق رکھنے والوں کےلئے یہ شہر خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے قرت و جوار میں تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے حامل بہت سے جڑواں شہر اور قصبے موجود ہیں۔سعودی عرب میں نقل و حرکت کےلئے بہترین سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے جو کسی بھی شہر تک آسان رسائی ممکن بناتا ہے۔ جازان یونیورسٹی میں لیکچرار کی حثیت سے گزشتہ ۶برسوں میں اس شہر کے گردونواح میں واقع شہرں میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے۔جن میں قابل ذکر شہر ابھا ہے۔ اسکی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا خوشگوار موسم اور خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں۔دلکش موسم اور سہانے مناظر کی وجہ سے اسے پاکستان کے تفریحی مقام مری سے مماثلت حاصل ہے۔ ابھا اور جازان شہر کے درمیان ۲۰۰کلومیٹر کافاصلہ باآسانی 2.30گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دوست ریاض شہر سے تشریف لائے اور ابھا شہر جانے کی خواہش کا ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...