Skip to main content

Waalid ka Muqaam - EsWrites


ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔
جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہی کہتا تھا کہ یہ بزرگ صحیح فرما رہے ہیں۔ لوگوں نے سمجھا بجھا کر باپ بیٹے کو گھر بھیج دیا اور بیٹے نے آئندہ نہ مارنے کا وعدہ کیا۔ جب تمام افراد چلے گئے تو وہ بزرگ رک گئے ‘ ہم صرف 2‘ 3 آدمی بچ گئے تھے ‘ ان بزرگ نے عجیب بات بتائی کہ آپ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے اور صلح کی باتیں کر رہے تھے۔ بزرگ نے کہا کہ آپ نے ایک بات نوٹ کی ہو گی کہ جب میں بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو باپ زارو قطار رو رہا تھا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب یہ شخص خود بیٹا تھا اور اس کا باپ زندہ تھا اس نے اپنے والد کو جوتا مارا تھا اور میں نے اس شخص کو جو اس وقت باپ ہے، یہی نصیحت کی تھی کہ والد کا مقام بہت بڑا ہے لیکن اس نے میری بات نہ مانی۔ آج اس کے بیٹے نے اس کو جوتے سے مارا ہے۔ یہ مکافات عمل ہے ۔ وقت کا پہیہ چل رہا ہے جس نے آج جو کچھ زیادتی کی اُس کو اِس کا جواب ضرور ملے گا، مگر انسان سوچتا نہیں ہے


Comments

Popular posts from this blog

Main Bulaoon, Awaz doon aur Tum na aao, Eisa Toh Kabhi ho hi Nahi Sakta

Phir vahi nazar, vahi badi badi bhoori aankhen aur phir vahi mujhe dekh kar shokhi ke saath palkon ka jhapkana. " Oye sun na, bore ho rahi hoon yaar " Aur phir vahi ada ke saath ubaasi lene ka natak karte hue mere kandhe par uska sar ka tikana. "Class mein suna karo ke kya bol rahe hain, filhal mere notes copy karke kaam chala rahi ho, aage zindagi mein kya karogi?? " Hamesha ki tarah mera shikayat karna. "Tum hoge na vahan bhi mera saath dene ko, my best friend" Hamesha ki tarah muskurate hue uska vahi purana jawab. Best friend. Is label se mujhe nafrat bhi thi aur ye haqeeat bhi thi ke is label ke bina jeena mera muhaal tha. Mere Humnafas, Mere Humnawa, Mujhe Dost Ban Ke Daga Na De Main Hoon sadma-e-Ishq Se Jaan-Valab, Mujhe Zindagi Ki Dua Na De. Use shayad khabar bhi nahi ke mere dil mein kya hai. Ke kaise main use dekh dekh jeeta hoon aur kaise mera use dekh dekh hi dam nikalta hai. Uske liye toh main uska sabse achha dost hoon jo uske ...

Allama IQbal's Love Life | Eswrites

Iqbal is considered nothing less than an infallible in Pakistan. Courtesy the corrupt text books which the young Pakistanis are bombarded with all their life,  a heavenly hero is what every kid is asked to perceive Iqbal as. There is no doubt in the fact that Iqbal was a revolutionary, a great Philosopher and poet but there has been many twists and turns in his personal life which we should all know as well – for this might help us understand him and his work better. I am posting below an English translation of “Allama Iqbal – Ek mehbooba, Teen beewiyaan, Chaar Shaadiyaan – Dr. Khalid Sohail.”  Laazim hai dil ke paas rahay paas-baan-e-aql Lekin kabhi kabhi isay tan-ha bhi Chhor day (It’s good to keep the heart under the guardianship of wisdom but sometime the heart needs to be left alone) Iqbal When we study the psychological aspect of Iqbal’s life, we find out that despite having a sensitive heart and a brilliant mind, he had to struggle against many roman...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...