Skip to main content

لیکن یہ جوس کے ڈبوں کا ہماری زندگی میں کیا کردار ہے


ایک پروفیسر اپنی فلاسفی کی کلاس میں طلباء کے سامنے کھڑے تھے پروفیسر صاحب کے سامنے میز پر چند چیزیں پڑی تھیں۔۔پروفیسر صاحب نے بنا کچھ کہے سامنے میز سے شیشے کا جگ اٹھایا اور اس میں چھوٹی چھوٹی گیندیں ڈالنی شروع کر دیں یہاں تک کہ جگ بھر دیا۔۔انھوں نے کلاس سے پوچھا، "کیا جگ بھر گیا؟"

جی جناب! بھر گیا۔۔۔کلاس کے تمام طلبا ء نے یک زبان جواب دیا، اس کے بعد پروفیسر صاحب نے کنکریوں سے بھرا باکس اٹھایا اور تمام کنکریاں جگ میں ڈال دیں اور جگ کو تھوڑا سا ہلایا۔۔۔کنکریاںگیندوں کے درمیاں موجود خلاء میں بیٹھ گئیں۔پروفیسر صاحب نے پھر کلاس سے پوچھا، "جگ بھرا ہے نا؟" کلاس نے پھر اثبات میں جواب دیا


اب پروفیسر صاحب نے ریت کا ڈبہ اٹھایا اور جگ میں ڈال دیا ۔۔ریت نے کون سا پہلے والی چیزوں کو باہر نکالنا تھا ریت ان چیزوں پر جا کر بیٹھ گئی۔ پروفیسر صاحب نے وہی سوال پوچھا، "جگ بھرا ہے نا؟" اس بار بھی جواب ہاں میں ہی تھا، اب پروفیسر صاحب نے دو عدد جوس کے ڈبے نکالے اور جگ میں انڈیل دیے۔۔جوس کے ڈبے میں موجود جوس ریت میں جذب ہو گیا۔۔۔ایک بھی قطرہ باہر نہ گرا، تمام طلباء کھلکھلا کر ہنس پڑے۔۔اب پروفیسر صاحب گویا ہوئے


"یہ جگ آپ کی زندگی ہے اور چھوٹی چھوٹی گیندیں آپ کی زندگی کے اہم حصے ہیں جیسے آپ کی فیملی،آپ کے دوست،آپ کے اہم شوق اور آپ کی صحت وغیرہ۔۔اگر باقی ہر چیز کھو جائے لیکن یہ چیزیں آپ کے پاس موجود ہوں تب بھی آپ کی زندگی مکمل ہے جیسے صرف گیندوں سے ہی جگ مکمل تھا۔۔"


پروفیسر صاحب نے بات جاری رکھی


"کنکریاں آپ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے حصے ہیں جیسی نوکری،گھر اور گاڑی وغیرہ اور ریت آپ کی زندگی کے باقی وہ تمام حصے جو ان چیزوں کے علاوہ ہیں۔۔۔اگر آپ جگ میں ریت پہلے رکھتے تو گیندوں اور کنکریوں کے لیے جگہ نہ بچتی زندگی میں بھی ایسا ہی ہے اگر آپ پہلے غیر اہم چیزوںکو سامنے رکھیں گے تو اہم چیزوں کے لیے آپ کی زندگی میں کوئی جگہ نہیں بچے گی۔ہمیشہ ان چیزوں پر پہلے توجہ دیں جو آپ کی حقیقی خوشیاں ہیں۔"


انھوں نے بات جاری رکھی

اپنے بچوں ،اپنی بیوی اپنے والدین کے ساتھ وقت گزاریں۔بیوی بچوں کو باہر کھانے پر لے کر جائیں۔کھیل کے لیے وقت نکالیں ۔۔کبھی کبھی گھر کے کاموں میں بیوی کی مدد کریں۔ چھوٹی چھوٹی گیندوں کی جانب پہلے توجہ دیں انھیں پہلے جگ میں ڈالیں یعنی اپنی زندگی کی ترجیحات پر نظر دوڑائیں اور اہم چیزوں کو پہلے سامنے رکھیں اور ریت کو بعد میں رکھیں غیر اہم چیزوں کو بعد میں رکھیں۔"


ایک طالب علم نے ہاتھ بلند کیا، "سر میرا ایک سوال ہے گیند،کنکریاں اور ریت کا تو پتا چل گیا لیکن یہ جوس کے ڈبوں کا ہماری زندگی میں کیا کردار ہے؟"


"مجھے بہت خوشی ہوئی کہ تم نے یہ سوال کیا"۔۔پروفیسر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا، "جوس کے دو ڈبوں نے بھرے ہوئے جگ میں جذب ہو کر دکھا دیا کہ آپ کی زندگی کتنی ہی مکمل یا کتنی ہی مصروف کیوں نا ہو پھر بھی آپ کے پاس دو گھڑی دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر جوس پینے کا وقت نکل ہی آتا ہے

Comments

Popular posts from this blog

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے...