Skip to main content

بیٹی۔۔۔۔



ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺟﮩﺎﻟﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔
ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﭽﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﺎ ﭨﮑﮍﺍ ﺗﮭﻤﺎ ﺩﯾﺘﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎ ﺗﮭﻤﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎ ﺩﯾﺘﮯ ۔
ﺑﭽﯽ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﮍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﭨﮑﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮭﯿﻠﻨﮯ ﻟﮕﺘﯽ ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺗﺐ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﺩﯾﺘﮯ۔ ﺑﭽﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﯿﻞ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﻣﭩﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﺮﺩﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭻ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮔﮭﺒﺮﺍ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﻮ ﺁﻭﺍﺯ ﺩﯾﺘﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﭼﻼﺗﯽ ﻣﻨﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻇﺎﻟﻢ ﺑﺎﭖ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺘﺎ ۔ﺍﺱ ﻗﺒﯿﺢ ﻓﻌﻞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﻭﮦ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﯽ ﭼﯿﺨﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﺗﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺎﻟﮯ ﭘﮍﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﻧﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺑﻌﺾ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﮔﻨﺎﮦ ﺳﺮﺯﺭﺩ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺭﺿﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﻨﮧ ﻧﮯﺍﭘﻨﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ ﺳﻨﺎﯾﺎ ﮐﮯ ﺟﺐ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔
ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﭘﮑﮍ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﻟﻤﺲ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ ﺳﺎﺭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺗﻠﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮦ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻓﺮﻣﺎﯾﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮩﻼﺗﺎ ﺭﮨﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﯽ ۔
ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﯾﺖ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔


ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﮭﻮﺩﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺑﺎﭖ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﺭﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﺱ ﺩﻥ ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻦ ﺭﮐﮭﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺭﯾﺖ ﮐﮭﻮﺩﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﻭﮞ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﻟﮓ ﮔﺌﯽ ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﭽﯽ ﻧﮯ ﺍﭨﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ
ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯼ ۔ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻧﻨﮭﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔
ﻭﮦ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﺘﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻗﮩﻘﮧ ﻟﮕﺎﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﮐﺮﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﯽ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺧﺪﺍﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺩﯾﮟ۔ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﯾﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﻓﻦ ﮨﻮﺗﯽ ﺭﮨﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﮈﺍﻟﻨﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﻓﺰﺩﮦ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯﻣﺠﮭﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ
" ﺍﺑﺎ ﺁﭖ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ "
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﮐﻮ ﭘﺘﮭﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﻗﺒﺮ ﭘﺮ ﻣﭩﯽ ﭘﮭﯿﻨﮑﻨﮯ ﻟﮕﺎ۔ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﯿﭩﯽ ﺭﻭﺗﯽ ﺭﮨﯽ ﭼﯿﺨﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﺩﮨﺎﯾﺎﮞ ﺩﯾﺘﯽ ﺭﮨﯽ ﻟﯿﮑﮟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻗﺒﺮ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﺩﻓﻦ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﯾﮧ ﻭﮦ ﻧﻘﻄﮧ ﺗﮭﺎ ﺟﮩﺎﮞ
ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻟﻌﻠﻤﺎﯾﻦ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﺿﺒﻂ ﺑﮭﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﺑﻨﺪﮪ ﮔﺌﯽ۔ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﺳﮯ ﺗﺮ ﮨﻮﮔﺌﯽ ۔ ﺍﻭﺭ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺣﻠﻖ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﻻ ﺑﻦ ﮐﺮ ﭘﮭﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺩﮬﺎﮌﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺍﻟﻠﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮨﭽﮑﯿﺎﮞ ﻟﮯ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ

Comments

Popular posts from this blog

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے...