Skip to main content

Posts

Showing posts from November, 2017

ماں

میں ہمیشہ سے بدتمیز رہا۔۔۔ بچپن میں اسکول جاتے ضد کرنا۔۔۔ کھانا کھاتے وقت ضد کرنا۔۔۔ یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا۔۔۔ مجھے نہیں یاد کے پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا ہو، کپڑے پہنے ہو یا کھانا کھایا ہو۔۔ باپ، بھائی اور بہن کی محبت مجھے مِل نہ سکی۔ پرائمری سے میٹرک کلاس تک تو یہ عادت تھی کہ رات میں سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بیگ غرض کہ ہر چیز اِدھر اُدھر چھوڑ کر سو جاتا تھا۔ مگر صُبح آنکھ کھولتے ہی جب دیکھتا کہ ہر چیز بہت ہی سلیقے سے بیگ میں پڑی ہوئی ہوتی تھی۔ اور میرا بیگ نہایت ہی نفاست سے میز پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ اور جب کبھی بھی رات میں بارش ہوتی تو مجھ پر کمبل ڈال دیا جاتا تھا۔ لیکن پھر بھی مجھے ہمیشہ سے گھر میں دو چیزوں سے بہت چیڑ تھی۔ ایک بارہ سے تیرہ گھنٹے ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین کے شور سے اور دوسری روٹی کے کناروں سے جو گئ نا کگنے سے سوکھی رہ جاتی تھی۔ مگر وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے جو نا کھانے کی وجہ سے چھوڑ دیتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے کبھی فروخت کیے گئے ہو۔ اور ہاں جب بھی مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی میں اُسی سلائی مشین کی طرف رُخ کرتا ...

صبر اور دعا

جنوری کی سردی نے ہر جگہ سناٹا کیا ہوا تھا سب لوگ اپنے کمروں میں ہیٹر کے اگے بیٹھے یا تو مونگ پھلی کا مزہ لے رہے ہونگے یا کافی یا چائے کا دور چل رہا ہوگا آج تو ہلکی بوندہ باندی نے ہر کسی کو گھر تک ہی محدود کر دیا ،،،،،پر ایک زی روح سردی کی پرواہ کئے بغیر چھت پر بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ۔ اسکے آنسو بارش کے پانی کے ساتھ بہتے چلے جا رہے تھے۔ وہ جانے کب تک یوہی بیٹھی رہتی ،،،اگر اسکی ماں اسے ڈھونڈتے چھت پر نا آجاتی ۔ “سائرہ بیٹا یہاں کیوں بیٹھی ہو؟ ،،تم رو رہی ہو ؟ ،،،اسنے آنکھیں اوپر کر کے ماں کی طرف دیکھا ۔اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی جو اسکا حال دل بیان کرنے کے لئے بہت تھی۔اماں اسے اٹھا کر کمرے میں لے گئی ۔اسکو کمبل اوڑھا کر اسکا سر اپنی گود میں رکھ کر بالوں کو سہلانے لگی ،،،،،ہیٹر کی وجہ سے کمرہ گرم ہو چکاتھا۔ “امی وہ میری قدر کیوں نہیں کرتا ؟،،،،،،کیوں اسنے اپنا دل میرے لئے سخت کر لیا ہے ،امی؟ ،،،،،میری غلطی کیا ہے امی؟،،،،،،،،وہ کافی دیر ماں کی گود میں سر رکھ کر سکون لیتی رہی،،،،وہ آج میکے ماں کو ملنے آئی تھی۔اسنے کبھی گلا نہیں کیا تھا آج جانے کیوں ماں کے سامنے دل کی بات بول بیٹھی ۔،،...

ناکامی اور کامیابی

یہ کہانی ہے 1938ء کے کیرالی نامی ایک شخص کی جو انگلیرین آرمی میں تھا اور وہ اپنے ملک کا بہترین پستول شوٹر تھا جتنی بھی نیشنل چیمپیئن شپس ہوئی تھی اس ملک میں وہ کیرالی جیت چکا تھا اور اس بار بھی سب لوگوں کو یقین تھا کہ 1940ء میں جو اولمپکس ہونے والے ہیں وہ کیرالی ہی جیتے گا۔اس نےدو سال ٹریننگ پر لگائے تھے اور اس کا ایک ہی سپنا تھا ایک ہی مقصد تھا کہ مجھے اپنے اس ہاتھ کو دنیاکا سب سے بہترین ہاتھ بنانا ہے میں نے دنیاکو دکھانا ہے کہ میرا یہ ہاتھ کتنا قیمتی ہے اور اس سے میں دنیا کو ہرا سکتا ہوں اس کا جو سپنا تھا وہ اس میں کامیاب ہوگیا اور اس نے اپنے ہاتھ کو بیسٹ شوٹر ہینڈ بنا دیا صرف دو سال میں۔  1938ء میں آرمی کا ایک ٹریننگ کیمپ چل رہا تھا جب وہ آرمی میں تھا اس کے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا اس کے اسی ہاتھ میں جس سے اس نے گولڈ میڈل جیتنا تھااس میں ایک ہینڈ گرنیڈ پٹ گیا اور وہ ہاتھ چلا گیا جو اسکا سپنا تھا جو فوکس تھا وہ سب ختم ہوگیا ۔اس کے پاس دو ہی راستے تھے ایک تو یہ کہ وہ پوری زندگی روتا رہے اور کہی جا کرچپ جائے اوردوسرا یہ کہ اپناجو مقصد تھا جو گول تھا اس پر فوکس کرنا تھا اس پر نہیں ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے...

Wo Choti Si Shehzadi ( Ek Zaat Ek Safar )

Bachpan Sy Jawani Tak Ka Safar Aik Khatan Safar Bht Sy Phool Ay Zindagi Mein Ay Jin Ko Choony Ki Sirf Khowaish Hi Ki To Hath Sy Aisy Lahu Nikla Jesy Kanton Ko Hath Mein Masla Ho Ye Aik Aisi Zindagi Hy Jis Mein Itna Sochny Ka Bhi Moqa Nahi Mila Ky Ye Sab Jo Ho Raha Hy Wo Kyun Kesy Or Kis Liye Ho Raha Hy .. Is Kathan Safar Ka Aghaz Us Waqt Hua Jab Is Kamsin Bachi Ny 3 Saal Ki Umar Mein Apni Ustani Sy Aik Aisi Bat Kahi Jo Dusron Ka To Difah Kar Gai Lekin Aj Tak Wo Chez Us Ky Sath Saye Ki Trha Rahi 3 Saal Ki Wo Bachi Apni Class Mein Bethi Parh Rahi Thi Ky Usy Aik Zordar Awaz Ai Jab Us Ny Nighaen Utha Ky Dekha To Wo Awaz Us Thapar Ki Thi Jo Ustani Ny Us Ky Hamjamat Ky Mun Py Mara Tha Ye Manzar Us Ky Liye Wo Na Qabil E Bardasht Tha Wo Foran Apni Ustani Sy Boli  "Meri Mama Kehti Hein Choty Bachon Ky Mun Py Thapar Nahi Marty"  Wo Waqt Or Aj Ka Waqt Us Ky Safar Mein Thapar Aisy Us Ky Sath Rahy Jesy Insan Ky Sath Saya Ho Us Ka Dekhny Mein Bht Masoom Or Bhooli Si Surat Thi Jis Py...

امیری سے غریبی تک کا سفر

دنیا میں کچھ بھی ہمیشہ کےلئے نہیں ۔ آج آپ کے پاس شہرت ہے، دولت ہے اور آپ کے اپنے، آپ کے پاس ہیں۔ کل ہو سکتا ہے ان میں سے کچھ یا سب کچھ نہ رہے۔ جازان شہر مکہ مکرمہ سے تقریبا ۷۱۵کلومیٹر جنوب مغرب میں یمن کے سرحدی علاقے میں واقع ایک تاریخی شہر ہے۔سیروسیاحت کا شوق رکھنے والوں کےلئے یہ شہر خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس کے قرت و جوار میں تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کے حامل بہت سے جڑواں شہر اور قصبے موجود ہیں۔سعودی عرب میں نقل و حرکت کےلئے بہترین سڑکوں کا جال بچھایا گیا ہے جو کسی بھی شہر تک آسان رسائی ممکن بناتا ہے۔ جازان یونیورسٹی میں لیکچرار کی حثیت سے گزشتہ ۶برسوں میں اس شہر کے گردونواح میں واقع شہرں میں جانے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے۔جن میں قابل ذکر شہر ابھا ہے۔ اسکی مقبولیت کی ایک وجہ اس کا خوشگوار موسم اور خوبصورت سیاحتی مقامات ہیں۔دلکش موسم اور سہانے مناظر کی وجہ سے اسے پاکستان کے تفریحی مقام مری سے مماثلت حاصل ہے۔ ابھا اور جازان شہر کے درمیان ۲۰۰کلومیٹر کافاصلہ باآسانی 2.30گھنٹے میں طے کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک دوست ریاض شہر سے تشریف لائے اور ابھا شہر جانے کی خواہش کا ...

Allama IQbal's Love Life | Eswrites

Iqbal is considered nothing less than an infallible in Pakistan. Courtesy the corrupt text books which the young Pakistanis are bombarded with all their life,  a heavenly hero is what every kid is asked to perceive Iqbal as. There is no doubt in the fact that Iqbal was a revolutionary, a great Philosopher and poet but there has been many twists and turns in his personal life which we should all know as well – for this might help us understand him and his work better. I am posting below an English translation of “Allama Iqbal – Ek mehbooba, Teen beewiyaan, Chaar Shaadiyaan – Dr. Khalid Sohail.”  Laazim hai dil ke paas rahay paas-baan-e-aql Lekin kabhi kabhi isay tan-ha bhi Chhor day (It’s good to keep the heart under the guardianship of wisdom but sometime the heart needs to be left alone) Iqbal When we study the psychological aspect of Iqbal’s life, we find out that despite having a sensitive heart and a brilliant mind, he had to struggle against many roman...

Nothing in life is more important than your family. - Eswrites

After 21 years of marriage, my wife wanted me to take another woman out to dinner and a movie. She said, “I love you, but I know this other woman loves you and would love to spend some time with you.” The other woman that my wife wanted me to visit was my MOTHER, who has been a widow for 19 years, but the demands of my work and my three children had made it possible to visit her only occasionally. That night I called to invite her to go out for dinner and a movie. “What’s wrong, are you well?” she asked. My mother is the type of woman who suspects that a late night call or a surprise invitation is a sign of bad news. “I thought that it would be pleasant to spend some time with you,” I responded. “Just the two of us.” She thought about it for a moment, and then said, “I would like that very much.” That Friday after work, as I drove over to pick her up I was a bit nervous. When I arrived at her house, I noticed that she, too, seemed to be nervous about our date. She waited in the d...

There was a country long time ago where the people would change a king every year.

I will share with you a story which shows the clever decision of a youth on how to live this life. This story is only an example. There was a country long time ago where the people would change a king every year. The person who would become the king had to agree to a contract that he will be sent to an island after his one year of being a king. So, one king finished his term and it was time for him to go to the island and live there. The people dressed him up in expensive clothes and put him on an elephant and took him around the cities to say goodbye to all the people. This was the moment of sadness for all the kings who ruled for one year. After saying goodbye, the people took the king with a boat to the remote island and left him there. On their way back, they discovered a ship that had sunk just recently. They saw a young man who survived by holding on to a floating piece of wood. As they needed a new king, they picked up the young man and took him to their country. They requeste...

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

Blind Girl ( Just take care of my eyes dear ) - Eswrites

There was a blind girl who hated herself just because she was blind. She hated everyone, except her loving boyfriend. He was always there for her. She said that if she could only see the world, she would marry her boyfriend. One day, someone donated a pair of eyes to her and then she could see everything, including her boyfriend. Her boyfriend asked her, “now that you can see the world, will you marry me?” The girl was shocked when she saw that her boyfriend was blind too, and refused to marry him. Her boyfriend walked away in tears, and later wrote a letter to her saying: “Just take care of my eyes dear.” This is how human brain changes when the status changed. Only few remember what life was before, and who’s always been there even in the most painful situations. Life Is A Gift Today before you think of saying an unkind word– think of someone who can’t speak. Before you complain about the taste of your food– think of someone who has nothing to eat. Before you...

Rights Of Parents In Islam - Eswrites

Allah (Glory and Greatness be to Him) says in Hadith al-Qudsi: I swear by My Glory and power that if a (child who is) disobedient to his parents comes to me with all the good deeds of all the prophets, I will not accept them from him. Although our existence is from Allah (Glory and Greatness be to Him), it is our parents who are the means of giving us life. We are an offshoot of their existence and a fruit of the garden of their unparalleled affection, training, love and sentiments. When the forgetful human being grows up to become big and strong and comes to acquire a certain credibility (in life), he forgets the period wherein he was weak and lacking in strength. He disregards the exhaustive efforts of his parents; what ingratitude could be worse than this? Humanity and ethics demand that we safeguard these two jewels (our mother and father) - by exhibiting goodness towards them while they are alive, and by means of charity and goodly remembrance after their death. Our liv...

Shyd ye bat kaam Ajaye

بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا - نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا - لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا - وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟ اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے - اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی - اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے - " اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟ اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہای...