Skip to main content

ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺎ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺎ ﮐﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮﻧﺎ



ﺟﻨﺎﺏ ﺟﺴﭩﺲ ﺷﻮﮐﺖ ﻋﺰﯾﺰ ﺻﺪﯾﻘﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮐﯿﺲ ﮐﯽ ﺳﻤﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺑﺠﺎ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺎ ﺧﻄﯿﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﯾﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻣﮕﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﺒﺮﻟﺰ ﺳﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﮐﻮ ﮐﺪﮬﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ remarks ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺎ ﮐﺮ ﻻﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﭩﺎ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ FIR ﺑﮭﯽ ﻓﺎﺋﻞ ﮐﺮ ﺩﯼ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﺲ ﭘﺮﻭﭨﯿﮑﺸﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺭﮨﯽ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻓﺎﺿﻞ ﺟﺴﭩﺲ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺷﺮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻻﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺫﻟﯿﻞ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﮯ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻓﺎﺿﻞ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﯽ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﮟ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮒ ﮐﺮ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺟﻮﺍﺯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺷﺮﻋﯽ ﺣﻖ ﺍﺳﺘﻤﻌﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺲ ﭘﮧ ﻓﺎﺿﻞ ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﯽ ﻧﻤﺎﺯﯾﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﻭﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺩﮮ ﺳﮑﺎ ﺟﻮ ﮐﮧ ﺍﺻﻞ ﺷﺮﻋﯿﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻭﻟﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﯽ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﺣﮑﻤﺖ ﭘﻨﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﻟﺒﻠﺮﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﮑﻮﻟﺮ ﺑﺪ ﺑﺨﺘﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻠﮏ ﮐﻮ ﺑﮯ ﺣﯿﺎ ﻣﻌﺎﺷﺮﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﺍ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ۔ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﭘﺎﻟﯿﺴﯿﺎﮞ ﺷﺮﻣﯿﻦ ﻋﺒﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺑﮯﻟﮕﺎﻡ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻧﮧ ﺭﻭﮐﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﮧ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﻧﺨﻮﺍﺳﺘﮧ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ۔ ﺁﺝ ﺩﯾﺴﯽ ﻟﺒﺮﻟﺰ dominate ﮐﺮ ﺗﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﺩﻡ ﺗﻮﮌﺗﯽ ﺟﺎﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮐﮯ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮨﻢ ﻟﺒﺮﻟﺰ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮐﻤﺘﺮﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻌﺎﺷﺮﮮ ﺍﻭﺭﻧﺌﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﯾﮏ ﺯﮨﺮ ﻗﺎﺗﻞ ﮨﮯ۔ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺳﮍﮐﻮﮞ ﮐﻨﺎﺭﮮ ﺳﺮ ﻋﺎﻡ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺷﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻟﻮ ﺗﮭﺎﺋﯽ ﺟﯿﻨﺰ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﻧﯿﻢ ﺑﺮﮨﻨﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﭨﺮ ﺳﺎﺋﯿﮑﻠﺰ ﭼﻼﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺳﮑﻮﻟﻮﮞ ، ﮐﺎﻟﺠﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﮍﮐﮯﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﮦ ﺳﭩﺎﺋﻞ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﭘﮭﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﺰﺭﮒ ’’ ﮐﻨﺠﺮ ﺳﭩﺎﺋﻞ ‘‘ ﮐﮩﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻋﺎﻡ ﺭﻭﺍﺝ ﮨﮯ۔ ﮨﺮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﺩﻭ ﺑﯿﻮﭨﯽ ﺳﯿﻠﻮﻥ ﮐﮭﻞ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﮐﮯ ﻣﯿﮏ ﺍﭖ ﮐﺮﻭﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﻗﻮﻡ ﮐﯽ ﻧﺌﯽ ﻧﺴﻞ ﮐﯿﺎ ﻟﮍﮮ ﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﻮ ﻧﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻧﺌﮯ ﺳﭩﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﭩﻮﺍﻧﮯﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﯿﺠﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﺮﺧﯽ ﭘﺎﺅﮈﺭ ﻟﮕﺎ ﮐﺮ ﺑﻨﻨﮯ ﺳﻨﻮﺭﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﮨﮯ۔۔۔ !! ﺳﻮﺷﻞ ﻣﯿﮉﯾﺎ ﮐﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﺮﻧﺲ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻨﮓ، ﭼﺎﺭﻣﻨﮓ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﻥ، ﺍﺭﮮ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ۔۔۔؟؟ ﺳﺎﺭﺍ ﺳﺎﺭﺍ ﺩﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﭘﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﺑﮯ ﺧﺒﺮ ﮨﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ۔ ﮐﻮﺗﺎﮨﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﮐﻤﭙﯿﻮﭨﺮ ﭘﺮ، ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻧﺰ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﭩﺮ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺩﮬﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻠﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺘﮯ ﺳﻨﻮﺭﺗﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ ﮐﮧ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺪﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ، ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺖ ﮐﯽ ﻣﮯ ﻗﺎﺿﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺍ ﮐﺮﺗﺎ۔ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﻣﺮﺩ ﮐﯽ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮐﯿﻮﻧﮑﺮ ﻧﮧ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ۔ ﺧﺪﺍ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺧﺘﻢ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺴﮯ ﮐﮯ ﭼﮭﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﻑ ﺑﮍﺍ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻓﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﭽﯿﺎﮞ ﻧﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻧﺰ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻻ ﺭﮨﯽ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺧﻮﺵ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﭽﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﮩﻨﮕﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺤﮯ ﮐﻮ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﯾﮧ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻧﮯ ﺍﭨﮭﺎﯾﺎ ﮨﮯﺍﺱ ﮐﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﻘﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﻣﺸﻘﺖ ﺳﮯﭼﮑﺎﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺷﺮﻡ ﺳﮯ ﮈﻭﺏ ﻣﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﮩﺎﮞ ﺍﻗﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﭘﯿﺴﮧ ﺣﺎﻭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﻭﮨﺎﮞ ﻏﯿﺮﺕ ﭘﺮ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﯽ ﺣﺎﻭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﯽ ﮨﻮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺐ ﺗﮏ ﮨﻮﺗﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺭﻭﺵ ﮐﻮ ﺗﺮﮎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ !!... ﯾﮧ ﺟﮭﻮﭦ ﮨﮯ ﮐﯽ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ ، ﺑﻠﮑﮧ ﺳﭻ ﺑﺎﺕ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﯽ ﻭﮦ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ.

Comments

Popular posts from this blog

ماں

میں ہمیشہ سے بدتمیز رہا۔۔۔ بچپن میں اسکول جاتے ضد کرنا۔۔۔ کھانا کھاتے وقت ضد کرنا۔۔۔ یہ نہیں کھانا وہ نہیں کھانا۔۔۔ مجھے نہیں یاد کے پانچویں کلاس تک میں نے اپنے ہاتھ سے نہایا ہو، کپڑے پہنے ہو یا کھانا کھایا ہو۔۔ باپ، بھائی اور بہن کی محبت مجھے مِل نہ سکی۔ پرائمری سے میٹرک کلاس تک تو یہ عادت تھی کہ رات میں سونے سے پہلے کتابیں، کاپیاں، بیگ غرض کہ ہر چیز اِدھر اُدھر چھوڑ کر سو جاتا تھا۔ مگر صُبح آنکھ کھولتے ہی جب دیکھتا کہ ہر چیز بہت ہی سلیقے سے بیگ میں پڑی ہوئی ہوتی تھی۔ اور میرا بیگ نہایت ہی نفاست سے میز پر رکھا ہوا ہوتا تھا۔ اور جب کبھی بھی رات میں بارش ہوتی تو مجھ پر کمبل ڈال دیا جاتا تھا۔ لیکن پھر بھی مجھے ہمیشہ سے گھر میں دو چیزوں سے بہت چیڑ تھی۔ ایک بارہ سے تیرہ گھنٹے ہاتھ سے چلائی جانے والی سلائی مشین کے شور سے اور دوسری روٹی کے کناروں سے جو گئ نا کگنے سے سوکھی رہ جاتی تھی۔ مگر وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے جو نا کھانے کی وجہ سے چھوڑ دیتا تھا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ وہ روٹی کے سوکھے ٹکڑے کبھی فروخت کیے گئے ہو۔ اور ہاں جب بھی مجھے پیسوں کی ضرورت ہوتی میں اُسی سلائی مشین کی طرف رُخ کرتا ...

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...