Skip to main content

آرٹسٹ کی کہانی جس کا تصویر بنانا اس کی سات سمندر پار محبت کا باعث بن گیا



وہ دہلی کی ایک سرد شام تھی جب سنہ 1975 میں سویڈن سے آنے والی شارلوٹ وان شیڈ ون نے بھارتی آرٹسٹ پی کے مہا نندیا سے اپنی تصویر بنانے کے لیے کہا تھا۔اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ محبت کی خاطر بھارت سے یورپ تک سائیکل سے سفر کی ایک کلاسیکل کہانی ہے۔شارلوٹ شیڈون بطور سیاح بھارت آئی تھیں جب انھوں نے دہلی کے کناٹ پلیس میں مہا نندیا کو تصویریں بناتے دیکھا تھا۔ مہا نندیا اس وقت تک خاکہ بنانے والے آرٹسٹ کے طور پر اپنی شناخت بنا لی تھی اور مقامی اخبارات میں ان کا نام شائع ہوتا تھا۔مہانندیا دس منٹ میں کسی کی بھی تصویر بنانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اسی سے متاثر ہو کر شارلوٹ نے اپنی تصویر بنوانے کا فیصلہ کیا لیکن جو تصویر بنی اس سے شارلوٹ مطمئن نہیں ہوئیں اور اگلے روز پھر آنے کا فیصلہ کیا۔مہا نندیا نے اگلے دن جو تصویر بنائی وہ بھی بہت اچھی نہیں تھی۔ اپنے دفاع میں مہانندیا نے کہا کہ تصویر بناتے وقت ان کے ذہن میں برسوں پہلے ان کی ماں کی جانب سے کی گئی ایک پیشین گوئی چل رہی تھی۔ریاست اڑیسہ کے رہنے والے مہانندیا دلت برادری سے ہیں اور بچپن میں انھوں نے ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک اور اعلیٰ ذات کے طالب علموں کے تعصب کو محسوس کیا تھا۔مہانندیا جب بھی اداس ہوتے تو ان کی ماں ان سے کہتی تھیں کہ ایک دن ان کی شادی موسیقی میں دلچسپی رکھنے والی لڑکی سے ہوگی جو دور ملک سے آئے گی اور وہ خود اپنے جنگل کی مالک ہوگی۔جب مہانندیا کی ملاقات شارلوٹ سے ہوئی تو انھیں اپنی ماں کی پیشن گوئی یاد آئی۔ انھوں نے شارلوٹ سے پوچھا کہ کیا وہ جنگل کی مالک ہیں؟شارلوٹ نے بتایا کہ ان کے خاندان کے پاس نہ صرف اپنا جنگل ہے بلکہ ان کی موسیقی میں بھی دلچسپی ہے۔




مہا نندیا نے بی بی سی کو بتایا ’میرے اندر سے آواز آئی کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کی مجھے تلاش ہے۔ اپنی پہلی ہی ملاقات میں ہم ایک دوسرے کی طرف مقناطیس کی طرح کھنچتے چلے گئے۔‘وہ کہتے ہیں کہ ’مجھے نہیں معلوم کہ میں نے کیوں ان سے سوال پوچھے اور چائے کے لیے بھی مدعو کیا تھا۔ مجھے لگا تھا کہ وہ پولیس کو شکایت کر دیں گی۔‘لیکن شارلوٹ کی رائے بالکل مختلف تھی۔ شارلوٹ نے بی بی سی کو بتایا ’مجھے وہ ایمان دار لگے اور میں بھی یہ جاننا چاہتی تھی کہ انھوں نے اس طرح کے سوالات مجھ سے کیوں کیے۔‘دونوں کے درمیان کئی بار بات ہوئی اور شارلوٹ مہا نندیا کے ساتھ اڑیسہ جانے کو تیار ہوگئیں۔وہ بتاتی ہیں ’جب پی کے نے مجھے کونارک مندر دکھایا تو میں جذباتی ہو گئی۔ لندن میں جب میں پڑھائی کر رہی تھی تب مندر کے پہیے کی تصویر میرے کمرے میں لگی تھی۔ لیکن اس وقت مجھے پتہ نہیں تھا کہ یہ جگہ کہاں ہے۔اور اس روز میں اسی مندر کے باہر کھڑی تھی۔‘دونوں کے درمیان محبت پروان چڑھتی گئی اور کچھ دن مہا نندیا کے گاؤں میں گزارنے کے بعد وہ دہلی واپس آئے۔مہاندیا یاد کرتے ہیں ’جب وہ پہلی بار میرے والد سے ملیں تو انھوں نے ساڑھی پہن رکھی تھی۔ میں نہیں جانتا کہ انھوں نے ایسا کس طرح کیا۔ میرے والد اور خاندان کی اجازت سے ہم نے قبائلی روایت کے تحت شادی کر لی۔‘شیڈون مشہور ہپّی ٹریل روٹ سے یورپ، ترکی، ایران، افغانستان اور پاکستان کے راستے سڑک سے 22 دنوں میں بھارت پہنچی تھیں۔ مہاندیا سے سویڈن میں ان کے شہر بوراس آنے کا وعدہ لے کر وہ اسی راستے سے واپس لوٹ گئیں۔

ایک سال سے زیادہ وقت گزر گیا۔ دونوں خطوط کے ذریعہ رابطے میں رہے۔ لیکن مہانند?ا کے پاس ہوائی جہاز کا ٹکٹ خریدنے کے پیسے جمع نہیں ہوئے۔انھوں نے جو کچھ بھی پاس تھا سب فروخت کرکے ایک سائیکل خرید لی اور یورپ کے لیے اسی ہپّی ٹریل روٹ کو پکڑ لیا جس سے شارلوٹ بھارت آئی تھیں۔22 جنوری 1977 کو انھوں نے اپنا سفر شروع کیا تھا اور وہ روزانہ تقریبا 70 کلومیٹر سائیکل چلاتے تھے۔مہانندیا یاد کرتے ہیں ’راستے میں خرچ کرنے کے لیے میں نے اپنے فن کا استعمال کیا۔ میں لوگوں کی تصویر بناتا اور وہ کچھ پیسے دے دیتے تھے۔ کچھ لوگوں نے کھانے اور رہنے کی جگہ بھی دی۔‘




مہاندیا یاد کرتے ہیں کہ 70 کے عشرے میں دنیا بہت مختلف تھی۔ زیادہ تر ممالک میں داخل ہونے کے لیے انھیں ویزا کی ضرورت نہیں پڑی۔افغانستان میں لوگ اردو سمجھ لیتے تھے لیکن جب ایران میں داخل ہوئے تو بات کرنے میں مشکلیں آئیں۔ لیکن ان کے فن نے مہانندیا کا ساتھ دیا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ محبت عالمی زبان ہے اور لوگ اسے سمجھتے ہیں۔‘لیکن کیا انھیں اس طویل سفر میں کبھی تھکن محسوس نہیں ہوئی؟ ’جی ہاں، بہت بار۔ میرے پیر دکھنے لگتے تھے لیکن شارلوٹ سے ملنے اور نئے مقامات دیکھنے کا جوش مجھے حوصلہ دیتا رہتا۔‘استنبول ہوتے ہوئے آخرکار وہ 28 مئی کو یورپ پہنچ گئے۔ پھرگوتھنبرگ تک کا سفر انھوں نے ریل سے کیا۔ پھر دونوں نے سویڈن میں سرکاری طور پر شادی کر لی۔وہ کہتے ہیں ’مجھے یورپی ثقافت کا کوئی علم نہیں تھا۔ میرے لیے سب کچھ نیا تھا۔ شارلوٹ نے ہر قدم پر میری مدد کی۔ وہ بہت خاص ہیں۔ میں آج بھی انھیں ویسے ہی محبت کرتا ہوں جیسے کہ سنہ 1975 میں کرتا تھا۔‘64 سالہ مہانندیا اب شارلوٹ اور اپنے دو بچوں کے ساتھ سویڈن میں ہی رہتے ہیں اور 

آرٹسٹ ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Waalid ka Muqaam - EsWrites

ہمارے قریب ہی ایک گھرانہ رہتا ہے۔ والد کی عمر 60‘ 65 سال کے قریب ہے۔ لیکن ان کے چہرے پر خوشحالی کے آثار نہیں ہیں بلکہ پریشانی اور ویرانی ٹپکتی رہتی ہے۔ معاشی لحاظ سے بھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ان کے گھر میں ہر وقت دنگا فساد رہتاہے۔باپ اور بیٹا ہر وقت آپس میں لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں اور لڑائی کی بظاہر وجہ بھی سمجھ نہیں آتی ۔ باپ اور بیٹا ایک دوسرے کو بہت زیادہ گالیاں دیتے ہیں۔ ایک دن والد روتا ہوا آیا ‘ انتہائی دکھ کے لہجے میں روتے ہوئے شکایت کی کہ آج بیٹے نے انتہا کر دی ہے۔ پہلے تو بیٹا مجھے گالیاں دیتا تھا لیکن آج نے مجھے جوتا اتار کر مارا ہے۔ سب لوگ اکٹھے ہوگئے۔ بیٹے کو بلایا گیا ‘ ایک بزرگ جو قریب ہی رہتے ہیں اور اس خاندان کو عرصہ دراز سے جانتے ہیں اور اس لڑکے کے دادا کو بھی جانتے ہیں ،وہ بلا کر بیٹے کو نصیحت کرنے لگے کہ والد کا مقام بہت اونچا ہے۔ جس نے بھی والد کو مارا ہے وہ ہمیشہ ذلیل و خوار ہوا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رسوائی ملتی ہے۔ جب یہ بزرگ بیٹے کو نصیحت کر رہے تھے بجائے بیٹے کے والد نے رونا شروع کر دیا اور روتے روتے ہچکی بندھ گئی اور بار بار یہ...

اندھا لڑکا اور آدمی

ایک اندھا لڑکا اپنی ٹوپی کو پاؤں کے قریب رکھ کے ساتھ عمارت کی سیڑھیوں میں بیٹھ گیا۔  اس نے کچھ لکھا ہوا بھی اٹھا رکھا تھا جو کچھ یوں تھا: میں اندھا ہوں میری مدد کیجیئے۔  ٹوپی میں کچھ ہی سکے پڑے تھے۔  ایک آدمی پاس سے گزرہا تھا اس نے اپنی جیب سے کچھ سکے لیے اور ٹوپی میں ڈال دیے۔  اس نے پھر وہ لکھائی والا کاغذ لیا،  اسکی دوسری طرف کچھ الفاظ لکھے۔ اس نے کاغذ واپس رکھ دیا تاکہ جو کوئی بھی گزرے وہ اسے دیکھ سکے۔  جلد ہی ٹوپی پیسوں سے بھرنے لگی۔  اب ذیادہ لوگ اندھے لڑکے کو پیسے دینے لگے۔  اس روز دن کے وقت وہ آدمی حالات دیکھنے کے لیے واپس آیا۔ لڑکے نے اس کے قدموں کی آواز کو بھانپ لیا اور پوچھا: کیا تم ہو وہی جس نے صبح میرے کاغذ پر کچھ لکھا تھا؟  تم نے کیا لکھا تھا؟  آدمی نے کہا میں نے صرف سچ لکھا،  میں نے وہی بات جو تم نے لکھ رکھی تھی،  ایک مختلف انداز میں لکھی۔  میں نے لکھا تھا: آج کا دن بہت پیارا ہے مگر میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔  کیا آپکو لگتا ہے کہ دونوں باتوں میں ایک ہی بات کہی گئی تھی؟  جی ہا، بالکل۔  دونوں لکھ...

بنتِ حوس

27 اکتوبر کا سورج اپنی آب و تاب سے نئے دن کا پیغام لیے طلوع ہو رہا تھا. چڑیوں کی چہچہہٹ کانوں میں پڑ رہی تھی. منے کی ماں گائے کا دودھ دوہنے میں مصروف جبکہ منے کا ابا اپنے اوزار لیے کھیتوں کی جانب نکلنے کی تیاری کررہا تھا بہر سے کچی سڑک پر گدھا گاڑی پردو نوجوان مویشیوں کیلئے گھاس کاٹنے کیلئے جا رہے تھے دور بستی سے شہر جانے والی اکلوتی بس ہارن بجا تے اور کچی سڑک پر مٹی دھول اڑاتی ہوئی رواں دواں تھی. شہر جانے والے مسافر بس کے ہارن سن کر سڑک کی جانب دوڑے چلے آ رہے تھے. گاؤں کے تالاب میں پانی بھرنے کیلئے بچیاں سر پر مٹکے لیے ایک دوسرے کے ساتھ چہہ مگوئیاں کرتی ہوئیں پہنچ رہی تھیں. ایک پانی بھر لیتی تو دوسری اسکے سر پر مٹکا رکھ کر اسے روانہ کرتی اسی طرح گاوں کی تمام بچیاں و خواتین آ جا رہی تھیں. ساتھ اچھلتے کودتے اور ٹائر چلاتے بچے بھی.... تالاب سے پانی بھرتے ہوئے14 سالہ (ش) بی بی سر پر پانی کا مٹکا لیے اپنی چند سہیلیوں کے ساتھ گھر کی جانب آ رہی تھی کہ اسے محسوس ہوا کہ کوئی ہے جو انکو گھیر چکا ہے. پھر دیکھتےہی دیکھتے چند افراد ان پر ٹوٹ پڑے اور آتے ہی ش بی بی کا ہاتھ پکڑا اسی دوران ش بی بی کے...